ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سرسی ڈاکٹروں کے ساتھ غنڈہ گردی کا معاملہ: کیا بی جے پی، اننت کمار ہیگڈے کوشمالی کینراکے معاملات کی نگرانی سے بے دخل کرے گی؟

سرسی ڈاکٹروں کے ساتھ غنڈہ گردی کا معاملہ: کیا بی جے پی، اننت کمار ہیگڈے کوشمالی کینراکے معاملات کی نگرانی سے بے دخل کرے گی؟

Sat, 07 Jan 2017 18:59:20    S.O. News Service

بھٹکل 7/جنوری (ایس او نیوز) ایسا لگتا ہے کہ بار بار اپنے بیانات اور کردار سے تنازعات کھڑے کرنے والے کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے سے خود ان کی پارٹی  یعنی بی جے پی کی لیڈر شپ بھی اب تنگ آگئی ہے۔

موصولہ خبروں پر اگربھروسہ کریں تو معلوم ہوا ہے کہ سرسی کے اسپتال میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے والے ڈاکٹروں اور اسٹاف پرایم پی کی طرف سے سڑک چھاپ غنڈے کی طرح کیا گیا حملہ بی جے پی کے لئے ہزیمت کا سبب بن گیا ہے۔ آئندہ سال ڈیڑھ سال کے اندرکرناٹکا میں انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ پارٹی نے آئندہ اسمبلی الیکشن میں ضلع کی6میں سے 5سیٹوں پرقبضہ جمانے کی نیت سے نوجوان لیڈروں اور کارکنان کو راغب کرنے کے لئے اننت کمار ہیگڈے کو دو اضلاع کا انچارج مقرر کیا تھا۔ لیکن پارٹی قیادت یہ محسوس کررہی ہے کہ اپنے غصے اور اشتعال انگیزی کی وجہ سے اننت کمار کی شخصیت اور منفی کردار پارٹی کے لئے بڑے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اسی اندیشے کے تحت اب ضلع میں پارٹی کی سرگرمیوں سے اننت کمار کو دور رکھنے پر سنجیدگی سے غور کیے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

جہاں تک اننت کمار ہیگڈے کا تعلق ہے وہ ضلع شمالی کینرامیں اپنے آپ کو سب سے اوپر اور سپریم سمجھنے اور اسی انداز سے پارٹی کارکنان اور لیڈرشپ کے ساتھ برتاؤ کرنے کے لئے مشہور ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ اپنی بے باکی اورسرگرمیوں کی وجہ سے اب تک پارٹی کا اعتماد حاصل کرنے اور نوجوان کارکنان کو پرجوش طریقے پر پارٹی سے قریب کرنے میں بھی وہ کامیاب رہے ہیں۔مگر اسی کے ساتھ ان کا متنازعہ اور اشتعال انگیز رویہ اب خود پارٹی کے لئے سردردد بن چکا ہے۔کہا جارہا ہے کہ اسی وجہ سے پارٹی لیڈر شپ اننت کمار ضلع انچارج کی ذمہ داری کے علاوہ ریاستی نائب صدر کا عہدہ بھی واپس لینے پر غور کررہی ہے۔مگرمبینہ طورپر قطعی فیصلے سے پہلے پارٹی اس بات پر نظر جمائے ہوئے ہے کہ ڈاکٹروں پر حملے کا معاملہ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

اننت کمار نے ڈاکٹروں کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اس پر انہیں ذرابھی پچھتاوا نہیں تھا، لیکن اب پولیس نے ان کے خلاف اپنے طور پر suo motto کیس داخل کیا ہے تو پھر اس کے پیچھے ریاستی وزیر داخلہ کا دباؤ بتایا جارہا ہے۔کیونکہ ابتدا میں پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا تھا کہ اگر کوئی آگے بڑھ کر شکایت درج کرے گا تبھی ہم کیس فائل کریں گے ورنہ پولیس اپنے طور پر کیس داخل نہیں کرے گی۔اب بی جے پی کے لیڈر وں کے لئے مشکل یہ ہے کہ وہ اسے کانگریس کی سیاسی چال قرار دے کر اننت کمار کے حملے کی واردات کو نظر انداز بھی نہیں کرسکتے۔اس پر یہ خوف بھی ان کا پیچھا کررہا ہے کہ اگر وہ کھل کر اس مرتبہ بھی اننت کمار کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو پھر میڈیکل پیشے سے وابستہ ایک بہت بڑا طبقہ اس کے خلاف ہوجائے گا۔لہٰذا اب بی جے پی قیادت کو ایک ہی راستہ دکھائی دیتا ہے کہ بی جے پی معاملات کی نگرانی سے اننت کمار ہیگڈے کو ہٹا دیا جائے تو کم از کم آئندہ ہونے والی شرمندگی سے بچا جاسکتا ہے۔


Share: